اسلام
آباد: احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم
نواز شریف کو 10 اور
ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 جب کہ داماد
کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا
سنادی
احتساب
عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلے میں نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو
20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا ہے اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ضبط کرنے کا بھی حکم
دیاہے جب کہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر پر جرمانہ نہیں کیاہے۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے ملزمان کے فیصلوں سے متعلق
میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حسین نواز اور حسن نواز عدالت میں پیش
نہیں ہوئے، ان سے متعلق سزا نہیں سنائی گئی۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز لاہور
کے حلقہ این اے 127 اور پی پی 137 جب کہ کیپٹن (ر) صفدر این اے 14 مانسہرہ سے امیدوار
تھے جو عدالتی فیصلے کے بعد اب الیکشن لڑنے کے اہل نہیں رہے۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق مریم نواز کو جھوٹی دستاویز جمع کرانے پر
بھی ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ ملزمان کو قید بامشقت سنائی گئی ہے۔ سردار
مظفر عباسی نے بتایا کہ نیب آرڈیننس میں سزا کے خلاف اپیل کے لیے 10دن رکھے گئے
ہیں اس لیے ملزمان کو سزا کے خلاف 10 دن میں اپیل کا حق حاصل ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ مریم نواز کے سزا
یافتہ ہونے سے الیکشن پر فرق نہیں پڑے گا، سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے بیلٹ پیپرز سے
مریم نواز کا نام نکال دیا جائے گا۔
