افغانستان
میں تعینات امریکی کمانڈر جان نکولسن نے کہا ہے کہ روس، پاکستان اور ایران جنگ سے
تباہ حال اس ملک میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں جس سے ان کے بقول دہشت گردی
و انتہا پسندی کے خلاف لڑائی پیچیدہ ہو رہی ہے۔
امریکی ریڈیو کی افغان سروس کو دئیے گئے ایک
انٹرویو میں جنرل جان نکولسن نے کہا کہ "ہمیں بیرونی عناصر پر تشویش ہے"۔
جنرل نکولسن کو روس کے طالبان کے ساتھ رابطوں پر بھی گہری پریشانی کا اظہار کیا اورکہا
کہ وہ کہتے ہیں کہ "روس طالبان کو جائز قرار دینے اور ان کی حمایت کی بھر پور
کوشش کر رہا ہے" جبکہ طالبان دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس
ہوتا ہے کہ روس طالبان اور منشیات کی تجارت سے وابستہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا
ہے‘۔روس ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ایران مغربی
افغانستان میں انتہا پسندوں کی حمایت کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔
یہ
صورتحال روس کے معاملے سے زیادہ پیچیدہ ہے، ایران اور افغانستان کے درمیان تجارتی
سرگرمیوں میں
اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ افغان اقتصادی سرگرمیوں
میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
