چوہدری اسلم کے قتل کی تحقیقات میں مزید پیش رفت - ABC Urdu News - Latest News - Business News Pakistan - Sports News - Education

My Ads

Click Here!
چوہدری اسلم کے قتل کی تحقیقات میں مزید پیش رفت

چوہدری اسلم کے قتل کی تحقیقات میں مزید پیش رفت

Share This


کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن سے گرفتار چار افراد سے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ گرفتار ملزمان کے مطابق شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کے قتل میں ان ہی کے ڈرائیور کامران کا ہاتھ تھا۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان قاری جاوید، ظفرسائیں، وزیر اور حسن عرف شاہ جی نے انکشافات کیے ہیں کہ شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کے ڈرائیور کامران نے چوہدری اسلم سے متعلق معلومات کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشت گرد عمران بھٹی کو دیں۔ کامران کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے تھا جبکہ عمران بھٹی پولیس کا مخبر بھی تھا جسے رینجرز نے گرفتار کرلیا تھا اور بعد میں چوہدری اسلم کے حوالے کردیا تھا۔
عمران بھٹی 2013 میں جیل سے ضمانت پر رہا ہوا اور رہائی کے بعد ہلاک دہشت گرد دلدار عرف چاچا سے جھگڑا ہوا جسکے بعد عمران کی لاش قیوم آباد ندی سے ملی۔
گرفتار ملزم کے بیان کے مطابق چوہدری اسلم پر پہلے حملے کے لیے خودکش حملہ آور بھی وزیر ستان سے عمران بھٹی نے بلوایا تھا۔ چوہدری اسلم کے قتل کی منصوبہ بندی میں دلدار عرف چاچا، عمران بھٹی، کامران اور قاری جاوید شامل ہیں ۔ ان افراد کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی کے امیر نعیم بخاری سے تھا۔
دلاور عرف چاچا نےاس سے قبل بارود سے بھری موٹر سائیکل تیار کی تھی جوکہ دو دن تک گارڈن کے علاقے میں چوہدری اسلم کے سیل کے قریب کھڑی رہی اور پھر گلشن اقبال حسن اسکوائر کے قریب قبرستان کے باہر کھڑی اوردھماکے کا نشانہ سابق میونسپل کمشنر متانت علی خان بنے تاہم اس بم کا رموٹ بھی دلدار عرف چاچا کے پاس تھا۔
ذرائع کے مطابق مہران ٹاؤن سے گرفتار دہشت گردوں کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی میں ایم آئی، آئی ایس آئی، آئی بی، این آئی، اسپیشل برانچ، ایس آئی یو اور سی ٹی ڈی کے افسران شامل ہیں۔


Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages