ایک دفعہ امریکی بحریہ کے جنرل نے ایک
مسلمان سے کہا کہ میں تمہارے رسول سے بھی
زیادہ طاقت ور ہوں۔ جنرل نے کہا کہ میرے ایک حکم پر یہ بیس ہزار فوجی جو تمہارے
سامنے کھڑے ہیں 10منٹ کے اندر اندر صفیں سیدھی کر لیں گے۔ مسلمان نوجوان نے
کہا،"اگر تمہارے سامنے مختلف عمر کے بیس ہزار لوگوں کو لایا جائے تو ان کی
صفیں بنانے میں تمہیں کتنا وقت لگے گا۔"
جنرل نے جوا ب دیا کہ اگر وہ
20ہزار لوگ میرے تربیت یافتہ ہونگے تو 2گھنٹے میں سفیں سیدھی کر لیں گے۔مسلمان
نوجوان نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور حرم کعبہ کا منظر اس امریکی جنرل کو دکھایا۔ اس
وقت نماز ظہر کا وقت تھا اور اما م کعبہ کی امامت میں لاکھوں فرزندان توحید صفیں
بنا کر نماز ادا کر رہے تھے۔ مسلمان نوجوان نے امریکی جنرل کو کہا کہ یہ 30لاکھ
لوگ ہیں اور ان کو امام ایک بار کہتا ہے کہ صفیں سیدھی کریں اور یہ سب لوگ ایک منٹ
کے اندر اندر سیدھی صفیں باندھ لیتے ہیں۔ حالانکہ
یہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ہیں۔ یہ نہ تو ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور نہ
ہی ایک دوسرے کی زبان سمجھتے ہیں۔ ان میں مخلتف عمر کے لوگ ہیں جن میں مرد، عورتیں
، بچے ، بوڑھے ، معذور اور حتیٰ کہ مریض بھی شامل ہیں۔ لیکن پھر بھی ایک منٹ کے
قلیل عرصہ میں لاکھوں لوگ صفیں سیدھی کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ امریکی جنرل حیرانگی سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ نوجوان نے مزید کہا
کہ یہ میرے رسول ﷺ کی تعلیم اور تربیت کا نتیجہ ہے۔
جی ہاں یہ امت تربیت یافتہ ہے۔ یہ صفیں سیدھی کرنا جانتی ہے اور عنقریب صفیں
سیدھی کرنے والے ہے۔ مگر اس امت کو صرف ایک خلیفہ راشد کا انتظار ہے، ایک اور عمر
رضی اللہ عنہ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر صدی میں اس امت میں ایک عظیم ہستی ضرور پیدا
ہوتی ہے۔
