انسداد دہشت گردی کی
خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب زیادتی و قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔سماعت کے
بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے بتایا کہ عمران کو
ننھی زینب کے اغوا، زیادتی، قتل اور 7 اے ٹی اے کے تحت 4،4 مرتبہ
سزائے موت سنائی گئی۔
پراسیکیوٹر جنرل نے
بتایا کہ عمران کو زینب سے بدفعلی پر عمرقید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ لاش کو
گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانےکی سزا بھی سنائی گئی۔
پراسیکیوٹر جنرل نے
بتایا کہ مجرم کے پاس اپیل کرنےکے لیے 15 دن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران سے عدالت
نے آخری وقت تک پوچھا تو اس نے اعتراف جرم کیا۔
زینب قتل کیس—پس منظر
پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ
بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو کچرے
کے ڈھیر سے ملی تھی۔زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور
قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین جاں
بحق ہو گئے۔
بعدازاں چیف جسٹس
پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے
والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس
میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے دیگر تفتیشی
اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی۔
جس
کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم
عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی
کی۔
ملزم
عمران کے خلاف کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل ہوا، جس پر 12 فروری کو فرد جرم عائد کی
گئی۔زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں روزانہ 9 سے 11 گھنٹے سماعت ہوئی،
اس دوران 56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور 36 افراد کی شہادتیں قلمبند
ہوئیں۔
سماعت
کے دوران ڈی این اے ٹیسٹ، پولی گرافک ٹیسٹ اور 4 ویڈیوز بھی ثبوت کے طور پر پیش کی
گئیں۔
